مرکزی مواد کی طرف جائیں
✦ علم نور ہے، جہالت اندھیرا — آئیے اس نور کو پھیلائیں ✦

سعید منزل

علمی و ادبی پلیٹ فارم

نبی کریم ﷺ بطور معلم: صحیح احادیث سے تدریس کے آٹھ اصول

رسول اللہ ﷺ کیسے سکھاتے تھے؟ صحیح احادیث کی روشنی میں نبوی طریقۂ تعلیم کے آٹھ اصول: نرمی، آسانی، سوال، تکرار، تصویر، اعتدال، سب کے لیے تعلیم اور علم کا مقصد۔

قرآن مجید نے نبی کریم ﷺ کی بعثت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے تعلیم کو مرکزی حیثیت دی ہے:

هُوَ ٱلَّذِي بَعَثَ فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ

وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔

— سورۃ الجمعہ، آیت 2

رسول اللہ ﷺ نے خود بھی اپنا تعارف ایک معلم کے طور پر کرایا۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہؓ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلاَ مُتَعَنِّتًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا

اللہ نے مجھے سختی کرنے والا اور لوگوں کو مشکل میں ڈالنے والا بنا کر نہیں بھیجا، بلکہ اس نے مجھے سکھانے والا اور آسانی پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

— صحیح مسلم، حدیث 1478

ایک ضروری وضاحت: ہمارے ہاں ایک روایت “إنما بعثت معلما” (مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے) بہت مشہور ہے، جو سنن ابن ماجہ (حدیث 229) میں ہے۔ محدثین نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔ البتہ اس کا مفہوم صحیح مسلم کی مذکورہ بالا صحیح حدیث سے ثابت ہے، اس لیے ہم یہاں صحیح روایت ہی پیش کر رہے ہیں۔

آئیے صحیح احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کیسے سکھاتے تھے۔

1. نرمی اور شفقت

حضرت معاویہ بن حکم سلمیؓ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔ ایک بار نماز میں کسی کو چھینک آئی تو انہوں نے نماز کے دوران ہی “یرحمک اللہ” کہہ دیا۔ لوگ انہیں گھورنے لگے اور رانوں پر ہاتھ مار کر چپ کرانے لگے۔ نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا۔ وہ خود بیان کرتے ہیں:

فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلاَ بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلاَ ضَرَبَنِي وَلاَ شَتَمَنِي

میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر سکھانے والا کوئی معلم نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! آپ نے نہ مجھے ڈانٹا، نہ مارا، نہ برا بھلا کہا۔

— صحیح مسلم، حدیث 537

آپ ﷺ نے صرف اتنا سمجھایا کہ نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں، یہ تو تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔ قرآن نے اسی نرمی کو آپ ﷺ کی کامیابی کا راز بتایا: “اور اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے” (سورۃ آلِ عمران، آیت 159)۔

2. آسانی پیدا کرنا، سختی نہیں

آپ ﷺ کی ایک جامع ہدایت حضرت انسؓ نے روایت کی:

يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلاَ تُنَفِّرُوا

آسانی پیدا کرو، مشکل نہ بناؤ؛ خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔

— صحیح بخاری، حدیث 69

اس کی عملی مثال وہ دیہاتی ہے جس نے مسجدِ نبوی میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ صحابہ اس کی طرف لپکے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور اس جگہ پانی کا ایک ڈول بہا دو، “فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ”، یعنی “تم آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، مشکل پیدا کرنے والے نہیں” (صحیح بخاری، حدیث 220)۔ ایک ناواقف کی غلطی پر غصے کے بجائے آپ ﷺ نے مسئلہ حل کیا اور سکھانے کا موقع پیدا کیا۔

3. سوال کے ذریعے تجسس پیدا کرنا

آپ ﷺ اکثر بات شروع کرنے سے پہلے سوال پوچھتے تاکہ سننے والے کا ذہن متوجہ ہو جائے:

أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ

کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟

— صحیح مسلم، حدیث 2589

صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “اپنے بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہو۔” پوچھا گیا کہ اگر وہ بات اس میں واقعی موجود ہو؟ فرمایا: “اگر موجود ہے تو تم نے غیبت کی، اور اگر نہیں تو تم نے بہتان باندھا۔” سوال، جواب اور پھر وضاحت: یہ طریقہ سیکھنے والے کو شریک بنا دیتا ہے۔

4. تکرار سے بات پختہ کرنا

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں:

أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ

آپ ﷺ جب کوئی (اہم) بات فرماتے تو اسے تین بار دہراتے، یہاں تک کہ وہ اچھی طرح سمجھ لی جائے۔

— صحیح بخاری، حدیث 95

اہم بات کو دہرانا کمزوری نہیں، تدریس کی حکمت ہے۔

5. تصویر اور مثال سے سمجھانا

ایک بار آپ ﷺ نے زمین پر ایک چوکور خانہ بنایا، اس کے بیچ میں ایک لکیر کھینچی جو خانے سے باہر نکل رہی تھی، اور درمیانی لکیر کے دونوں طرف چھوٹی چھوٹی لکیریں بنائیں۔ پھر فرمایا: یہ انسان ہے، یہ خانہ اس کی موت ہے جس نے اسے گھیر رکھا ہے، باہر نکلنے والی لکیر اس کی امیدیں ہیں، اور یہ چھوٹی لکیریں آفتیں ہیں؛ اگر ایک سے بچ جائے تو دوسری اسے آ لیتی ہے (صحیح بخاری، حدیث 6417، روایت: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ)۔ ایک سادہ خاکے نے زندگی کی حقیقت ایسی واضح کر دی جو لمبی تقریر سے شاید نہ ہوتی۔

6. اعتدال اور وقفہ

نبی کریم ﷺ لوگوں کو مسلسل نصیحتوں سے تھکاتے نہیں تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ، كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا

نبی ﷺ ہمیں نصیحت کرنے کے لیے دنوں کا خیال رکھتے تھے (روز روز نہیں)، اس ڈر سے کہ ہم اکتا نہ جائیں۔

— صحیح بخاری، حدیث 68

آج کی زبان میں کہیں تو: چھوٹے اسباق، مناسب وقفے، اور سیکھنے والے کی توجہ کا احترام۔

7. سب کے لیے تعلیم: خواتین، بچے اور غریب

آپ ﷺ کی درسگاہ کسی ایک طبقے کے لیے مخصوص نہیں تھی۔ خواتین نے عرض کیا کہ مرد آپ کا سارا وقت لے لیتے ہیں، ہمارے لیے بھی ایک دن مقرر فرما دیجیے۔ آپ ﷺ نے ان سے ایک دن کا وعدہ کیا، اس دن ان سے ملے، انہیں نصیحت کی اور احکام سکھائے (صحیح بخاری، حدیث 101)۔

مسجدِ نبوی کا “صُفّہ” وہ چبوترہ تھا جہاں غریب اور بے گھر صحابہ رہتے اور علم حاصل کرتے تھے؛ حضرت ابو ہریرہؓ جیسے عظیم راوی اسی درسگاہ سے نکلے۔ اور آپ ﷺ بچوں کو بھی براہِ راست تعلیم دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ، جو اس وقت کم عمر تھے، بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھا تو آپ نے فرمایا:

يَا غُلاَمُ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ

اے لڑکے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں: اللہ (کے حکموں) کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا؛ اللہ کا خیال رکھو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔

— جامع ترمذی، حدیث 2516 (امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا)

8. علم کا مقصد اور فضیلت

آخر میں آپ ﷺ نے علم کو محض معلومات نہیں، بلکہ جنت کا راستہ قرار دیا:

وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ

جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ اس کے لیے اس کے ذریعے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔

— صحیح مسلم، حدیث 2699

یہی وہ مقصد ہے جو سیکھنے اور سکھانے دونوں کو عبادت بنا دیتا ہے۔

آج کے اساتذہ اور والدین کے لیے

ان آٹھ اصولوں کو آج کے کلاس روم اور گھر میں یوں اپنایا جا سکتا ہے:

  • غلطی پر ڈانٹ کے بجائے سمجھانا: بچے یا طالب علم کی غلطی کو شرمندگی کا نہیں، سکھانے کا موقع بنائیں۔
  • سبق سے پہلے سوال: “کیا تم جانتے ہو…؟” سے شروع کریں تاکہ ذہن متوجہ ہو۔
  • اہم نکتہ تین بار: سبق کے شروع، درمیان اور آخر میں اہم بات دہرائیں۔
  • خاکہ اور مثال: بورڈ پر ایک سادہ تصویر اکثر لمبی وضاحت سے بہتر ہے۔
  • چھوٹے اسباق: لمبے لیکچر کے بجائے مختصر سبق اور وقفے۔
  • بیٹیوں اور بیٹوں دونوں کی تعلیم: نبوی درسگاہ میں خواتین کے لیے بھی وقت مقرر تھا۔

عملی سبق

  • اس ہفتے اپنے بچے یا شاگرد کو کچھ سکھاتے وقت ایک سوال سے آغاز کریں اور ایک سادہ خاکہ استعمال کریں۔
  • کسی کی غلطی پر ردِعمل دینے سے پہلے حضرت معاویہ بن حکمؓ کا واقعہ یاد کریں۔
  • ترمذی کی حدیث “احفظ اللہ یحفظک” اپنے بچوں کو زبانی یاد کروائیں۔

حوالہ جات

→ تمام مضامین

رابطے میں رہیں

نئے مضامین کی اطلاع، سوال یا تجویز کے لیے ہمیں ای میل کریں۔

ای میل بھیجیں — info@saeedmunzil.com