آج مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence یا AI) ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ فون پر راستہ بتانے والا نقشہ، ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ، تصویروں کی پہچان، اور سوالوں کے جواب دینے والے چیٹ بوٹ، سب AI ہی کی شکلیں ہیں۔ طلبہ اس سے اسائنمنٹ لکھوا رہے ہیں، کاروبار اس سے کام لے رہے ہیں، اور ڈاکٹر اس سے بیماریوں کی تشخیص میں مدد لے رہے ہیں۔
ایک مسلمان کے ذہن میں فطری سوال اٹھتا ہے: کیا یہ ٹیکنالوجی اچھی ہے یا بری؟ اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ اگرچہ قرآن و حدیث میں AI کا نام نہیں، مگر اس سے جڑے ہر بڑے اخلاقی سوال کے لیے واضح اصول موجود ہیں۔
AI آخر ہے کیا؟
آسان الفاظ میں، AI ایسے کمپیوٹر پروگرام ہیں جو بہت بڑی مقدار میں ڈیٹا سے نمونے (patterns) سیکھتے ہیں اور پھر ان کی بنیاد پر نئے سوالوں کا جواب دیتے یا فیصلے کرتے ہیں۔ چیٹ بوٹ جیسے پروگرام اربوں جملے پڑھ کر یہ سیکھتے ہیں کہ کسی بات کے بعد کون سا لفظ آنا زیادہ ممکن ہے۔
دو باتیں یاد رکھنی ضروری ہیں۔ پہلی، AI انسان کی طرح “سمجھتا” نہیں؛ وہ اندازہ لگاتا ہے۔ دوسری، یہ اندازے کبھی کبھی بالکل غلط ہوتے ہیں، اور AI غلط بات بھی پورے اعتماد سے کہہ دیتا ہے۔ ماہرین اسے “hallucination” کہتے ہیں۔ یہی کمزوری آگے آنے والے کئی اخلاقی سوالوں کی جڑ ہے۔
اسلام کا بنیادی نقطۂ نظر: آلہ اپنے استعمال سے پہچانا جاتا ہے
اسلام علم اور ایجاد کا مخالف نہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ کائنات کی چیزیں انسان کے کام کے لیے مسخر کی گئی ہیں:
وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا مِّنۡهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ
اور اس نے آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا دیں۔ بے شک اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
— سورۃ الجاثیہ، آیت 13
چھری سے پھل بھی کٹتا ہے اور کسی کو نقصان بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح AI بذاتِ خود نہ حلال ہے نہ حرام؛ اس کا حکم اس کے استعمال سے طے ہوتا ہے۔ اسلامی فقہ میں شریعت کے پانچ بنیادی مقاصد (مقاصدِ شریعت) بیان کیے جاتے ہیں: دین، جان، عقل، نسل اور مال کی حفاظت۔ جو AI ان کی حفاظت کرے وہ قابلِ تعریف ہے، اور جو انہیں نقصان پہنچائے وہ ناجائز ہے۔
آئیے اب چھ اہم سوالوں کو دیکھتے ہیں۔
پہلا سوال: سچ اور جھوٹی خبریں
AI کے ذریعے اب ایسی جعلی ویڈیوز اور آوازیں (deepfakes) بنائی جا سکتی ہیں جن میں کسی شخص کو وہ بات کہتے دکھایا جاتا ہے جو اس نے کبھی نہیں کہی۔ ایسی چیزیں واٹس ایپ پر لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ قرآن کا حکم اس بارے میں بالکل واضح ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن جَآءَكُمۡ فَاسِقُۢ بِنَبَإٖ فَتَبَيَّنُوٓاْ أَن تُصِيبُواْ قَوۡمَۢا بِجَهَٰلَةٖ فَتُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ نَٰدِمِينَ
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔
— سورۃ الحجرات، آیت 6
ایک اور جگہ فرمایا: “اور جس بات کا تمہیں علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑو، بے شک کان، آنکھ اور دل سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔” (سورۃ الاسراء، آیت 36)۔ آج کے دور میں ان آیات کا عملی مطلب یہ ہے کہ کوئی ویڈیو یا خبر آگے بھیجنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔
دوسرا سوال: انصاف اور تعصب
AI اسی ڈیٹا سے سیکھتا ہے جو اسے دیا جاتا ہے۔ اگر ڈیٹا میں کسی قوم، زبان یا طبقے کے خلاف تعصب موجود ہو تو AI بھی وہی تعصب سیکھ لیتا ہے، مثلاً نوکری کے لیے درخواستیں چھانٹتے وقت یا قرض دینے کا فیصلہ کرتے وقت۔ قرآن انصاف کو ہر حال میں قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے، چاہے وہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّـٰمِينَ بِٱلۡقِسۡطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ
اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، چاہے وہ تمہارے اپنے خلاف ہی ہو۔
— سورۃ النساء، آیت 135
جو لوگ AI بناتے یا استعمال کرتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ اس کے فیصلوں کو جانچیں اور کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے دیں۔
تیسرا سوال: پرائیویسی اور جاسوسی
بہت سی ایپس ہماری تصویریں، پیغامات، مقام اور عادات کا ڈیٹا جمع کرتی ہیں، اور AI اس ڈیٹا سے لوگوں کے بارے میں حیرت انگیز حد تک تفصیلی اندازے لگا سکتا ہے۔ قرآن نے دوسروں کی ٹوہ لگانے سے صاف منع کیا ہے: “وَلَا تَجَسَّسُواْ” یعنی “اور جاسوسی نہ کرو” (سورۃ الحجرات، آیت 12)۔ کسی کی اجازت کے بغیر اس کا ذاتی ڈیٹا جمع کرنا، بیچنا یا اس کی نگرانی کرنا اسی ممانعت کے دائرے میں آتا ہے۔ ایک عام صارف کے لیے سبق یہ ہے کہ ایپس کو صرف ضرورت کی اجازت دیں اور دوسروں کی تصاویر یا معلومات ان کی رضامندی کے بغیر AI ٹولز میں نہ ڈالیں۔
چوتھا سوال: دیانت داری، خاص طور پر طلبہ کے لیے
AI سے پورا مضمون یا اسائنمنٹ لکھوا کر اسے اپنا کام بتا کر جمع کرانا دھوکہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ ایک بار غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، ہاتھ اندر ڈالا تو نیچے کا غلہ گیلا نکلا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ گیلا حصہ اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیں، اور پھر فرمایا:
مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي
جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں۔
— صحیح مسلم، حدیث 102
البتہ AI کو استاد یا مددگار کے طور پر استعمال کرنا، مثلاً کسی مشکل تصور کو سمجھنے یا اپنی تحریر کی غلطیاں پکڑنے کے لیے، اور پھر یہ واضح بتا دینا کہ کہاں مدد لی گئی، دیانت کے خلاف نہیں۔ فرق نیت اور شفافیت کا ہے۔
پانچواں سوال: ذمہ داری کس کی ہے؟
جب AI غلط فیصلہ کرے تو قصوروار کون ہے؟ اسلام کا جواب واضح ہے: مشین نہیں، انسان۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
— صحیح بخاری، حدیث 893
AI بنانے والی کمپنی، اسے اپنے کاروبار میں لگانے والا ادارہ، اور اسے استعمال کرنے والا فرد، سب اپنی اپنی حد تک جواب دہ ہیں۔ “کمپیوٹر نے کہا تھا” کوئی عذر نہیں۔ یہی اصول بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے: یونیسکو کے رکن ممالک نے نومبر 2021ء میں AI کی اخلاقیات پر جو سفارشات منظور کیں، ان میں انسانی نگرانی اور جواب دہی کو بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔
چھٹا سوال: کیا AI سے دینی مسئلہ پوچھا جا سکتا ہے؟
یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ چیٹ بوٹ اکثر قرآن کی آیات کے نمبر غلط بتا دیتے ہیں، ایسی احادیث گھڑ لیتے ہیں جو کسی کتاب میں موجود نہیں، یا کسی فقہی مسئلے کا ادھورا جواب دے دیتے ہیں۔ دین کے معاملے میں یہ غلطی بہت سنگین ہے۔ قرآن کی ہدایت ہے:
فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔
— سورۃ النحل، آیت 43
AI کسی موضوع پر ابتدائی معلومات جمع کرنے میں مدد دے سکتا ہے، مگر فتویٰ اور دینی رہنمائی کے لیے مستند عالمِ دین ہی سے رجوع کرنا چاہیے۔ اور AI جو بھی آیت یا حدیث بتائے، اسے قرآن یا حدیث کی اصل کتاب سے ملا کر دیکھنا ضروری ہے۔
روزگار اور مستقبل
بہت سے لوگ پریشان ہیں کہ AI ان کی نوکریاں لے لے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ کام بدلیں گے اور کچھ نئے کام پیدا ہوں گے۔ مسلمان کا رویہ مایوسی نہیں بلکہ تیاری ہونا چاہیے: نئی مہارتیں سیکھنا، AI کو اپنے کام میں جائز طریقے سے استعمال کرنا، اور رزق کے لیے حلال راستے پر قائم رہنا۔ اللہ نے انسان کو جو عزت دی ہے (سورۃ الاسراء، آیت 70)، کوئی مشین اسے نہیں چھین سکتی؛ سوچنا، اخلاقی فیصلہ کرنا اور دوسروں کا خیال رکھنا انسان ہی کا کام ہے۔
عملی سبق
- کوئی ویڈیو یا خبر آگے بھیجنے سے پہلے رکیں اور پوچھیں: کیا میں نے اس کی تصدیق کی ہے؟
- AI سے مدد لیں تو بتائیں کہ کہاں لی، اور اسے اپنی سوچ کا متبادل نہ بنائیں۔
- AI کی بتائی ہوئی ہر آیت اور حدیث کو Quran.com یا Sunnah.com پر خود چیک کریں۔
- اپنے فون کی ایپس کی اجازتیں (permissions) دیکھیں اور غیر ضروری اجازتیں بند کریں۔
حوالہ جات
- قرآن مجید: الجاثیہ 45:13، الحجرات 49:6، الاسراء 17:36، النساء 4:135، الحجرات 49:12، النحل 16:43، الاسراء 17:70
- صحیح مسلم، حدیث 102
- صحیح بخاری، حدیث 893
- UNESCO, Recommendation on the Ethics of Artificial Intelligence (نومبر 2021ء)