قرآن مجید اپنا تعارف خود ان الفاظ میں کراتا ہے:
ذَٰلِكَ ٱلۡكِتَٰبُ لَا رَيۡبَۛ فِيهِۛ هُدٗى لِّلۡمُتَّقِينَ
یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے۔
— سورۃ البقرہ، آیت 2
یعنی قرآن بنیادی طور پر ہدایت کی کتاب ہے، فزکس یا حیاتیات کی درسی کتاب نہیں۔ اس کے باوجود قرآن بار بار انسان کو آسمانوں، زمین، پانی، بارش، پودوں اور خود اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اس موضوع پر عام طور پر دو انتہائیں ملتی ہیں۔ کچھ لوگ ہر نئی سائنسی دریافت کو فوراً قرآن کی کسی آیت سے جوڑ دیتے ہیں، چاہے آیت کا مطلب کھینچنا پڑے۔ اور کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایمان اور سائنس آپس میں ٹکراتے ہیں۔ یہ مضمون ان دونوں کے درمیان ایک متوازن راستہ پیش کرتا ہے: آیات کیا کہتی ہیں، سائنس کیا کہتی ہے، اور ان کو جوڑتے وقت کن اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
قرآن کی دعوت: دیکھو، سوچو، غور کرو
قرآن کی پہلی وحی ہی پڑھنے اور علم سے شروع ہوئی:
ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ
پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو جمے ہوئے لوتھڑے (علق) سے پیدا کیا۔ پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے سکھایا، انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
— سورۃ العلق، آیات 1 تا 5
اور اہلِ عقل کی پہچان یہ بتائی:
إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
— سورۃ آلِ عمران، آیت 190
اگلی آیت میں ان لوگوں کی تعریف ہے جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی تخلیق میں غور کرتے ہیں۔ یہاں ذکر اور فکر ایک ساتھ ہیں: کائنات کا مطالعہ عبادت کا حصہ بن جاتا ہے۔
پانچ آیات جن پر اکثر بات ہوتی ہے
ذیل میں وہ آیات ہیں جو اس بحث میں سب سے زیادہ پیش کی جاتی ہیں۔ ہر ایک کے ساتھ ہم دیکھیں گے کہ کلاسیکی مفسرین نے اسے کیسے سمجھا اور آج کے دور میں اس پر کیا کہا جاتا ہے۔
1. ماں کے پیٹ میں انسان کی تخلیق کے مراحل
ثُمَّ خَلَقۡنَا ٱلنُّطۡفَةَ عَلَقَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡعَلَقَةَ مُضۡغَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡمُضۡغَةَ عِظَٰمٗا فَكَسَوۡنَا ٱلۡعِظَٰمَ لَحۡمٗا ثُمَّ أَنشَأۡنَٰهُ خَلۡقًا ءَاخَرَۚ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحۡسَنُ ٱلۡخَٰلِقِينَ
پھر ہم نے نطفے کو علقہ بنایا، پھر علقے کو مضغہ (چبائی ہوئی بوٹی جیسا) بنایا، پھر مضغے سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک اور ہی مخلوق بنا کر اٹھایا۔ پس بڑا بابرکت ہے اللہ، سب سے بہتر پیدا کرنے والا۔
— سورۃ المؤمنون، آیت 14
عربی لفظ “علقہ” کے معنی چمٹنے والی چیز، جونک اور جمے ہوئے خون، تینوں آتے ہیں۔ کلاسیکی مفسرین نے عموماً اسے جما ہوا خون سمجھا۔ جدید علمِ جنین بتاتا ہے کہ ابتدائی جنین رحم کی دیوار سے چمٹ کر غذا لیتا ہے، اور چند ہفتوں بعد اس کی پشت پر ابھرے ہوئے حصے (somites) چبائی ہوئی چیز جیسے نظر آتے ہیں۔ بہت سے مسلمان اہلِ علم اس مطابقت کو قابلِ غور سمجھتے ہیں۔ البتہ آیت کا اصل مقصد اللہ کی قدرت اور انسان کی تخلیق کی عظمت دکھانا ہے، طبی تفصیل بیان کرنا نہیں۔
2. “اور ہم وسعت دینے والے ہیں”
وَٱلسَّمَآءَ بَنَيۡنَٰهَا بِأَيۡيْدٖ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ
اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا، اور ہم یقیناً وسعت دینے والے ہیں۔
— سورۃ الذاریات، آیت 47
بیسویں صدی میں سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ بیلجیئم کے ماہرِ فلکیات ژورژ لومیتر نے 1927ء میں یہ نظریہ پیش کیا اور امریکی ماہرِ فلکیات ایڈون ہبل کے 1929ء کے مشاہدات نے اس کی تائید کی۔ آج بہت سے لوگ اس آیت کے لفظ “مُوسِعُونَ” کو اسی سے جوڑتے ہیں۔ دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم یہ بھی بتائیں کہ کلاسیکی مفسرین نے اس کا مطلب عموماً یہ لیا کہ “ہم بڑی قدرت اور وسعت والے ہیں”۔ دونوں معنی عربی زبان میں ممکن ہیں۔
3. پانی اور زندگی
وَجَعَلۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ كُلَّ شَيۡءٍ حَيٍّۚ أَفَلَا يُؤۡمِنُونَ
اور ہم نے ہر زندہ چیز پانی سے بنائی، تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے؟
— سورۃ الانبیاء، آیت 30
حیاتیات کے مطابق زمین پر ہر معلوم جاندار کو زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے، اور جانداروں کے خلیوں کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہر دور کا انسان اپنے مشاہدے سے بھی جانتا تھا، مگر آج اس کی گہرائی کہیں زیادہ واضح ہے۔
4. ہر چیز اپنے مدار میں
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ
اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے، سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔
— سورۃ الانبیاء، آیت 33
قدیم زمانے میں عام خیال یہ تھا کہ سورج ساکن آسمانی کرّوں میں جڑا ہوا ہے۔ آج فلکیات بتاتی ہے کہ چاند زمین کے گرد گھومتا ہے، زمین سورج کے گرد، اور خود سورج بھی ہماری کہکشاں کے مرکز کے گرد حرکت کر رہا ہے۔ آیت کا لفظ “یَسْبَحُونَ” (تیرتے ہیں) اس مسلسل حرکت کی خوبصورت تصویر ہے۔
5. دو سمندروں کے درمیان پردہ
مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ يَلۡتَقِيَانِ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخٞ لَّا يَبۡغِيَانِ
اس نے دو سمندروں کو چھوڑ دیا کہ آپس میں ملتے ہیں، ان کے درمیان ایک پردہ ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھتے۔
— سورۃ الرحمٰن، آیات 19 تا 20
جہاں دریا سمندر میں گرتے ہیں یا دو مختلف سمندر ملتے ہیں، وہاں پانی کی نمکینی، درجۂ حرارت اور کثافت میں فرق کی وجہ سے ایک درمیانی حد (zone) بنتی ہے جہاں دونوں پانی آہستہ آہستہ ملتے ہیں اور اپنی الگ خصوصیات دیر تک قائم رکھتے ہیں۔ مفسرین نے اسے ہمیشہ اللہ کی قدرت کی نشانی کے طور پر دیکھا ہے، اور آج سمندری سائنس اس منظر کو مزید واضح کرتی ہے۔
احتیاط کے پانچ اصول
یہ آیات واقعی غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں، مگر اس موضوع پر بات کرتے ہوئے پانچ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
1. آیت قطعی ہے، سائنسی نظریہ بدل سکتا ہے۔ سائنس مسلسل ترقی کرتی ہے اور اس کے نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ اگر ہم کسی آیت کو کسی ایک نظریے سے باندھ دیں اور کل وہ نظریہ بدل جائے تو بلاوجہ لوگوں کے ایمان کو آزمائش میں ڈالیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ کہا جائے: “یہ آیت اس دریافت کی طرف اشارہ کر سکتی ہے”، نہ کہ “قرآن نے یہ سائنسی نظریہ ثابت کر دیا”۔
2. عربی زبان اور تفسیر کی روایت کا احترام۔ کسی لفظ کا وہ معنی نہیں گھڑنا چاہیے جو عربی میں ممکن ہی نہ ہو۔ اندلس کے مشہور عالم امام شاطبیؒ (وفات 790ھ / 1388ء) نے اپنی کتاب “الموافقات” میں ان لوگوں پر تنقید کی جو قرآن میں ہر علم و فن تلاش کرتے تھے، اور اصرار کیا کہ قرآن کو اسی زبان اور اسلوب کے مطابق سمجھا جائے جس میں وہ نازل ہوا۔
3. جھوٹی کہانیوں سے بچیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی کہانیاں عام ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں، مثلاً یہ کہ خلا باز نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر اذان سنی اور مسلمان ہو گئے۔ آرمسٹرانگ نے خود اس کہانی کی عوامی طور پر تردید کی تھی۔ ایسی باتیں پھیلانا اسلام کی خدمت نہیں، بلکہ اس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
4. قرآن کا اصل معجزہ اس کی ہدایت ہے۔ قرآن کی سچائی اس پر منحصر نہیں کہ اس میں کتنی سائنسی معلومات ہیں۔ اس کا معجزہ اس کا بے مثال کلام، اس کی ہدایت، اور وہ انقلاب ہے جو اس نے انسانوں کی زندگیوں میں برپا کیا۔
5. سائنس اللہ کی نشانیوں کو پہچاننے کا ذریعہ ہے۔ قرآن خود وعدہ کرتا ہے:
سَنُرِيهِمۡ ءَايَٰتِنَا فِي ٱلۡأٓفَاقِ وَفِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّۗ
ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یہی حق ہے۔
— سورۃ فصلت، آیت 53
مسلمانوں کی سائنسی روایت
قرآن کی اسی دعوت نے مسلمانوں کو تجربے اور مشاہدے کی طرف مائل کیا۔ ابن الہیثم (تقریباً 965ء تا 1040ء) نے روشنی اور بصارت پر “کتاب المناظر” لکھی اور تجربے کے ذریعے نظریات کو پرکھنے پر زور دیا۔ البیرونی (973ء تا تقریباً 1050ء) نے زمین کے رداس کی پیمائش کی اور ہندوستان کی تہذیب کا علمی مطالعہ کیا۔ بغداد کے بیت الحکمہ کی کہانی ہم ایک الگ مضمون میں بیان کر چکے ہیں۔ یہ علما سائنس کو ایمان کا حریف نہیں، بلکہ اللہ کی تخلیق کو سمجھنے کا راستہ سمجھتے تھے۔
عملی سبق
- اس ہفتے سورۃ آلِ عمران کی آیات 190 اور 191 ترجمے کے ساتھ پڑھیں، اور رات کو آسمان دیکھتے وقت انہیں یاد کریں۔
- کوئی بھی “قرآن اور سائنس” والی پوسٹ آگے بھیجنے سے پہلے آیت کا نمبر اور ترجمہ خود چیک کریں۔
- بچوں کو سائنس پڑھاتے وقت قدرت کے کسی ایک مظہر کو اس سے متعلق آیت کے ساتھ جوڑیں۔
حوالہ جات
- قرآن مجید: البقرہ 2:2، العلق 96:1-5، آلِ عمران 3:190-191، المؤمنون 23:12-14، الذاریات 51:47، الانبیاء 21:30، الانبیاء 21:33، الرحمٰن 55:19-20، فصلت 41:53
- امام ابو اسحاق الشاطبی، “الموافقات”
- ابن الہیثم، “کتاب المناظر”