مرکزی مواد کی طرف جائیں
✦ علم نور ہے، جہالت اندھیرا — آئیے اس نور کو پھیلائیں ✦

سعید منزل

علمی و ادبی پلیٹ فارم

نئی نسل کی تربیت: قرآن و سنت کی روشنی میں والدین کے لیے عملی رہنمائی

بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ فطرت، محبت، انصاف، نماز، عمر کے مطابق رہنمائی اور اسکرین ٹائم کے بارے میں قرآن، صحیح احادیث اور عالمی ادارۂ صحت کی سفارشات پر مبنی عملی گائیڈ۔

آج کے والدین ایک ایسی دنیا میں بچے پال رہے ہیں جو پچھلی نسل سے بہت مختلف ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور تیزی سے بدلتی اقدار نے تربیت کو پہلے سے زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ مگر قرآن و سنت کے بنیادی اصول آج بھی اتنے ہی کارآمد ہیں جتنے چودہ سو سال پہلے تھے۔ اس مضمون میں ہم انہی اصولوں کو صحیح احادیث کی روشنی میں، اور جہاں ضرورت ہو جدید تحقیق کے ساتھ، عملی انداز میں پیش کر رہے ہیں۔

تربیت: ایک امانت اور ذمہ داری

قرآن والدین کو براہِ راست مخاطب کرتا ہے:

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَأَهۡلِيكُمۡ نَارٗا

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔

— سورۃ التحریم، آیت 6

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے، “وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهْوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا”، یعنی “مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے، اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے” (صحیح بخاری، حدیث 893)۔ تربیت ماں اور باپ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے

كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔

— صحیح بخاری، حدیث 1385

یہ حدیث تربیت کا پورا فلسفہ بیان کر دیتی ہے۔ بچہ نیکی کی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، اور اس کا ماحول، خاص طور پر ماں باپ کا نمونہ، طے کرتا ہے کہ وہ کس سمت جائے گا۔ بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم کہتے ہیں، وہ سیکھتے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ جو باپ خود جھوٹ بولتا ہو وہ بچے کو سچ کی نصیحت کرے تو اثر کم ہوگا۔

محبت اور شفقت: تربیت کی بنیاد

ایک بار رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسے حضرت حسن بن علیؓ کو بوسہ دیا۔ پاس بیٹھے اقرع بن حابسؓ نے کہا: میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو نہیں چوما۔ آپ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا:

مَنْ لاَ يَرْحَمُ لاَ يُرْحَمُ

جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

— صحیح بخاری، حدیث 5997

آپ ﷺ چھوٹے بچوں سے ان کی دلچسپی کی باتیں بھی کرتے تھے۔ حضرت انسؓ کے ایک چھوٹے بھائی ابو عمیر کے پاس ایک چھوٹا پرندہ (نُغیر) تھا جس سے وہ کھیلتا تھا۔ آپ ﷺ جب بھی آتے، پیار سے پوچھتے: “يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ”، “اے ابو عمیر! تمہارے نُغیر نے کیا کیا؟” (صحیح بخاری، حدیث 6203)۔ امت کے سب سے مصروف رہنما ایک چھوٹے بچے کے پرندے کا حال پوچھنے کا وقت نکالتے تھے۔ آج کے والدین کے لیے سبق یہ ہے کہ بچے کی چھوٹی چھوٹی دلچسپیوں میں شریک ہونا ہی اس کے دل تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

بچوں کے درمیان انصاف

حضرت نعمان بن بشیرؓ کے والد نے انہیں ایک تحفہ دیا اور چاہا کہ رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ بنائیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم نے اپنے سب بچوں کو ایسا ہی تحفہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

فَاتَّقُوا اللَّهَ، وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلاَدِكُمْ

اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔

— صحیح بخاری، حدیث 2587

چنانچہ وہ واپس گئے اور اپنا تحفہ واپس لے لیا۔ ایک بچے کو دوسرے پر ترجیح دینا، چاہے تحفے میں ہو، توجہ میں یا تعریف میں، بہن بھائیوں کے درمیان حسد اور دوری پیدا کرتا ہے۔ اس میں بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان برابری بھی شامل ہے۔

حضرت لقمان کی نصیحتیں: تربیت کا قرآنی نصاب

سورۃ لقمان میں ایک باپ کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں ہیں، جو تربیت کا مکمل نصاب ہیں۔ سب سے پہلے عقیدہ:

يَٰبُنَيَّ لَا تُشۡرِكۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞ

اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

— سورۃ لقمان، آیت 13

غور کیجیے کہ نصیحت “یا بُنَیَّ” یعنی “اے میرے پیارے بیٹے” سے شروع ہوتی ہے۔ حکم سے پہلے محبت۔ پھر حضرت لقمان بیٹے کو بتاتے ہیں کہ رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل، چاہے چٹان میں چھپا ہو یا آسمانوں اور زمین میں، اللہ اسے سامنے لے آئے گا (آیت 16)۔ یہ احساس کہ اللہ ہر جگہ دیکھ رہا ہے، بچے کے اندر وہ ضمیر پیدا کرتا ہے جو ماں باپ کی غیر موجودگی میں بھی اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بعد عبادت اور کردار:

يَٰبُنَيَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ

اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو، اور جو مصیبت آئے اس پر صبر کرو۔ بے شک یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

— سورۃ لقمان، آیت 17

اور آخر میں آداب: لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کرنا، زمین پر اکڑ کر نہ چلنا، چال میں میانہ روی اور آواز پست رکھنا (آیات 18 تا 19)۔ عقیدہ، ضمیر، عبادت، کردار اور آداب: یہ ترتیب آج بھی ہر گھر کے لیے رہنما ہے۔

نماز: سات سال کی عمر سے نرمی کے ساتھ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مُرُوا أَوْلاَدَكُمْ بِالصَّلاَةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ

اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں۔

— سنن ابی داؤد، حدیث 495 (علامہ البانی نے اسے حسن صحیح کہا)

اسی حدیث میں دس سال کی عمر میں نماز پر سختی کرنے اور بستر الگ کرنے کا بھی ذکر ہے۔ علما توجہ دلاتے ہیں کہ سات سے دس سال تک کے تین برس محبت، ترغیب اور اپنے نمونے سے نماز کی عادت ڈالنے کا وقت ہیں، اور کسی بھی مرحلے پر بچے کو جسمانی نقصان پہنچانا یا اس کی تذلیل کرنا جائز نہیں۔ والدین کے لیے قرآن کا حکم یہ ہے کہ وہ خود بھی پابندی کریں: “اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر جمے رہو” (سورۃ طٰہٰ، آیت 132)۔

عمر کے مطابق تربیت

ہمارے ہاں ایک قول مشہور ہے کہ “سات سال کھیلنے دو، سات سال سکھاؤ، اور سات سال دوست بن کر رہو”۔ یہ نبی کریم ﷺ کی حدیث نہیں، اور کسی صحابی سے بھی اس کی نسبت مستند طور پر ثابت نہیں۔ البتہ اس کا عمومی خیال کہ ہر عمر کی ضرورت الگ ہے، تجربے کے مطابق ہے:

  • ابتدائی برس: محبت، تحفظ، کھیل، اور گھر میں اللہ کا نام اور قرآن کی آواز۔ اس عمر میں بچہ زیادہ تر دیکھ کر سیکھتا ہے۔
  • اسکول کی ابتدائی عمر: نماز کی ترغیب، قرآن کی تعلیم، سچ اور امانت جیسے اخلاق، اور چھوٹی ذمہ داریاں۔
  • نوعمری: دوستی، اعتماد اور گفتگو۔ اس عمر میں حکم سے زیادہ دلیل اور بات سننا کام آتا ہے۔ بچے کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ کوئی بھی سوال یا مسئلہ ماں باپ کے پاس لا سکتا ہے۔

موبائل اور اسکرین کا معاملہ

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے 2019ء میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے جو رہنما اصول جاری کیے، ان کے مطابق:

  • ایک سال سے کم عمر: اسکرین بالکل نہیں۔
  • ایک سال کی عمر: ایک جگہ بیٹھ کر اسکرین دیکھنا (جیسے ٹی وی یا ویڈیو) تجویز نہیں کیا جاتا۔
  • دو سے چار سال: دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں، اور جتنا کم ہو اتنا بہتر۔

بڑے بچوں کے لیے گھر کے کچھ واضح اصول مددگار ہیں: کھانے اور نماز کے وقت فون نہیں، رات کو فون سونے کے کمرے سے باہر، اور ایپس اور گیمز کا انتخاب والدین کی نگرانی میں۔ سب سے مؤثر اصول یہ ہے کہ والدین خود بھی ان پر عمل کریں۔

دعا: تربیت کا سب سے مضبوط ہتھیار

تمام تر کوششوں کے بعد ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ قرآن نے اللہ کے نیک بندوں کی یہ دعا سکھائی:

رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ أَزۡوَٰجِنَا وَذُرِّيَّـٰتِنَا قُرَّةَ أَعۡيُنٖ وَٱجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِينَ إِمَامًا

اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔

— سورۃ الفرقان، آیت 74

اور نیک اولاد صرف دنیا کی خوشی نہیں، آخرت کا سرمایہ بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، “أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ”، یعنی “یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے” (صحیح مسلم، حدیث 1631)۔

عملی سبق

  • اس ہفتے ہر بچے کے ساتھ روزانہ کم از کم پندرہ منٹ صرف اس کی دلچسپی کی بات کریں، فون کے بغیر۔
  • گھر کے لیے اسکرین کے تین اصول لکھ کر سب کے سامنے لگائیں، اور خود بھی ان پر عمل کریں۔
  • سورۃ الفرقان کی آیت 74 والی دعا ہر نماز کے بعد پڑھنے کی عادت بنائیں۔
  • اگر کسی بچے کو انجانے میں دوسرے پر ترجیح دی ہو تو اسے برابر کریں۔

حوالہ جات

→ تمام مضامین

رابطے میں رہیں

نئے مضامین کی اطلاع، سوال یا تجویز کے لیے ہمیں ای میل کریں۔

ای میل بھیجیں — info@saeedmunzil.com