مرکزی مواد کی طرف جائیں
✦ علم نور ہے، جہالت اندھیرا — آئیے اس نور کو پھیلائیں ✦

سعید منزل

علمی و ادبی پلیٹ فارم

بیت الحکمہ بغداد: علم کا سنہری دور اور اس کے عظیم علما

عباسی بغداد کا بیت الحکمہ کیا تھا، ترجمے کی تحریک کیسے چلی، الخوارزمی، الکندی اور حنین بن اسحاق جیسے علما نے کیا کارنامے انجام دیے، اور 1258ء میں یہ سب کیسے ختم ہوا۔

762ء میں عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے دریائے دجلہ کے کنارے ایک نیا گول شہر بسایا جس کا نام بغداد تھا۔ چند ہی دہائیوں میں یہ شہر دنیا کا سب سے بڑا علمی مرکز بن گیا۔ یونان کے فلسفی، ہندوستان کے ریاضی دان اور ایران کے ماہرینِ فلکیات کی کتابیں یہاں عربی میں ترجمہ ہوئیں، اور ان پر نئی تحقیق کی بنیاد رکھی گئی۔ اس علمی بیداری کی سب سے مشہور علامت “بیت الحکمہ” یعنی “دانش کا گھر” ہے۔

اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ بیت الحکمہ دراصل کیا تھا، اس دور کے نمایاں علما کون تھے، یہ سنہری دور کیسے ختم ہوا، اور آج ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔

علم کی جستجو کی دینی بنیاد

اس علمی تحریک کے پیچھے صرف سیاسی یا معاشی وجوہات نہیں تھیں۔ مسلمانوں کے سامنے قرآن کا یہ سوال تھا:

قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلَّذِينَ يَعۡلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ

کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔

— سورۃ الزمر، آیت 9

اور یہ دعا جو قرآن نے خود سکھائی: “وَقُل رَّبِّ زِدۡنِي عِلۡمٗا”، “اور کہو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما” (سورۃ طٰہٰ، آیت 114)۔ نماز کے اوقات، قبلے کی سمت، چاند کے مہینے، وراثت کی تقسیم اور زکوٰۃ کے حساب جیسے دینی تقاضوں نے بھی فلکیات اور ریاضی کی ضرورت پیدا کی۔

بیت الحکمہ کیا تھا؟

بیت الحکمہ کی ابتدا عباسی خلفا کے شاہی کتب خانے سے ہوئی۔ خلیفہ ہارون الرشید (دورِ حکومت 786ء تا 809ء) کے زمانے میں یہ کتب خانہ “خزانۃ الحکمہ” کہلاتا تھا۔ ان کے بیٹے خلیفہ المامون (دورِ حکومت 813ء تا 833ء) نے اسے بہت وسعت دی۔ انہوں نے ترجمے اور تحقیق کی سرپرستی کی، اور 828ء میں بغداد کے علاقے شماسیہ میں ایک فلکیاتی رصدگاہ قائم کی۔

یہاں ایک دیانت دارانہ وضاحت ضروری ہے۔ مقبول کتابوں اور ویڈیوز میں بیت الحکمہ کو اکثر ایک عظیم الشان یونیورسٹی کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ ییل یونیورسٹی کے ماہرِ عربی ادب دیمیتری گوتاس نے اپنی 1998ء کی کتاب میں دلائل دیے ہیں کہ دستیاب ثبوتوں کے مطابق یہ بنیادی طور پر ایک کتب خانہ اور سرکاری ادارہ تھا، اور یونانی کتابوں کے ترجمے کی بڑی تحریک اس کی چار دیواری سے باہر بھی وسیع پیمانے پر چل رہی تھی۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ بیت الحکمہ کو ایک پوری علمی تحریک کی علامت سمجھا جائے، جس میں خلفا، وزرا، امرا اور علما سب شریک تھے۔

ترجمے کی عظیم تحریک

آٹھویں سے دسویں صدی عیسوی کے دوران یونانی، سریانی، فارسی (پہلوی) اور سنسکرت سے سیکڑوں علمی کتابیں عربی میں منتقل ہوئیں۔ ان میں ارسطو کا فلسفہ، اقلیدس کی جیومیٹری، بطلیموس کی فلکیات اور جالینوس کی طب شامل تھی۔

اس دور کے سب سے مشہور مترجم حنین بن اسحاق (809ء تا 873ء) تھے، جو ایک نسطوری عیسائی طبیب تھے اور “شیخ المترجمین” کہلاتے تھے۔ انہوں نے جالینوس کی بہت سی طبی کتابیں عربی میں ترجمہ کیں۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس تحریک میں مسلمانوں کے ساتھ عیسائی، صابی اور مجوسی پس منظر کے علما بھی شامل تھے۔ علم کو کسی ایک قوم کی جاگیر نہیں سمجھا جاتا تھا۔

کاغذ نے بھی اس انقلاب میں بڑا کردار ادا کیا۔ کاغذ سازی کا فن وسطی ایشیا کے راستے مسلم دنیا میں پہنچا، اور آٹھویں صدی کے آخر تک بغداد میں کاغذ بننے لگا تھا۔ اس سے کتابیں سستی ہوئیں اور علم عام لوگوں کی پہنچ میں آیا۔

سنہری دور کے چند عظیم علما

محمد بن موسیٰ الخوارزمی (تقریباً 780ء تا 850ء): المامون کے دور میں بیت الحکمہ سے وابستہ ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات۔ تقریباً 820ء میں انہوں نے “الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ” لکھی۔ اسی کتاب کے لفظ “الجبر” سے انگریزی کا لفظ “Algebra” بنا۔ ہندی اعداد پر ان کی کتاب لاطینی میں “Algoritmi de numero Indorum” کے نام سے مشہور ہوئی، اور ان کے نام کی اسی لاطینی شکل “Algoritmi” سے لفظ “Algorithm” نکلا، جو آج ہر کمپیوٹر پروگرام کی بنیاد ہے۔ ان کی الجبرا کی کتاب کا لاطینی ترجمہ رابرٹ آف چیسٹر نے 1145ء میں اسپین میں کیا۔

یعقوب بن اسحاق الکندی (تقریباً 801ء تا 873ء): انہیں “فیلسوف العرب” کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ارسطو کے فلسفے کو عربی دنیا میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور فلسفہ، ریاضی، طب اور موسیقی پر لکھا۔ خفیہ پیغامات کو کھولنے پر ان کا رسالہ “frequency analysis” کے طریقے کی سب سے پرانی معلوم تحریری وضاحت مانا جاتا ہے، یعنی یہ دیکھنا کہ کسی زبان میں کون سا حرف کتنی بار آتا ہے۔

بنو موسیٰ: محمد، احمد اور حسن نامی تین بھائی جو المامون کے دور میں سرگرم تھے۔ ان کی کتاب “کتاب الحیل” میں سو کے قریب خودکار مشینوں اور آلات کے نقشے ہیں۔ انہوں نے ریاضی اور جیومیٹری پر بھی کام کیا اور دوسرے علما کی سرپرستی کی۔

ثابت بن قرہ (826ء تا 901ء): حران کے صابی عالم، جنہوں نے اپولونیوس، ارشمیدس، اقلیدس اور بطلیموس کی کتابوں کے ترجمے کیے اور ریاضی میں اپنی تحقیق بھی پیش کی۔

روایات کے مطابق المامون نے اپنے ماہرینِ فلکیات کو زمین کے محیط کی پیمائش کا کام بھی سونپا، جنہوں نے عراق کے میدانِ سنجار میں ایک درجہ عرض بلد کا فاصلہ ناپا۔

زوال: 1258ء کا سانحہ

بیت الحکمہ اور بغداد کی علمی رونق کئی صدیوں تک قائم رہی، اگرچہ عباسی خلافت سیاسی طور پر کمزور ہوتی گئی۔ فروری 1258ء میں منگول سردار ہلاکو خان کی فوج نے بغداد کا محاصرہ کیا اور 13 فروری کو شہر میں داخل ہو گئی۔ شہر کو تباہ کیا گیا، آخری عباسی خلیفہ المستعصم کو قتل کیا گیا، اور کتب خانے برباد کر دیے گئے۔ روایت ہے کہ اتنی کتابیں دجلہ میں پھینکی گئیں کہ دریا کا پانی سیاہی سے کالا ہو گیا۔ مورخین اس طرح کی بعض تفصیلات کو ادبی مبالغہ سمجھتے ہیں، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علمی دنیا کے لیے ایک عظیم نقصان تھا۔

بیت الحکمہ کا ورثہ

بغداد تو برباد ہو گیا، مگر وہاں پیدا ہونے والا علم ختم نہیں ہوا۔ یہ علم پہلے ہی قاہرہ، قرطبہ، سمرقند اور دوسرے مراکز تک پہنچ چکا تھا۔ بارہویں صدی میں اسپین کے شہر طلیطلہ (Toledo) میں عربی کتابوں کا بڑے پیمانے پر لاطینی میں ترجمہ ہوا، اور جیرارڈ آف کریمونا جیسے مترجمین نے درجنوں کتابیں یورپ تک پہنچائیں۔ یوں مسلمانوں کے محفوظ اور ترقی یافتہ کیے ہوئے علم نے یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کی بنیادیں فراہم کیں۔

آج ہمارے لیے سبق

  • علم کی سرپرستی: بیت الحکمہ اس لیے پروان چڑھا کہ حکمرانوں اور امرا نے علم پر خرچ کیا۔ آج یہ ذمہ داری حکومتوں کے ساتھ ساتھ ہم سب کی ہے: کتب خانے، اسکالرشپ اور تحقیق۔
  • کھلا ذہن، تنقیدی نظر: مسلمانوں نے دوسری تہذیبوں کا علم لیا مگر آنکھ بند کر کے نہیں؛ اسے پرکھا، درست کیا اور آگے بڑھایا۔
  • اپنی زبان میں علم: ترجمے نے علم کو عام کیا۔ آج اردو میں معیاری علمی مواد کی کمی اسی کام کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
  • علم کی حفاظت: بغداد کا سانحہ یاد دلاتا ہے کہ علم کو محفوظ رکھنے کے لیے اتحاد، مضبوط ادارے اور اس کی نقلیں ضروری ہیں۔

عملی سبق

  • اس ہفتے الخوارزمی یا الکندی میں سے کسی ایک کی زندگی پر کوئی مستند مضمون یا کتاب کا باب پڑھیں۔
  • اپنے بچوں کو بتائیں کہ “Algebra” اور “Algorithm” کے الفاظ کہاں سے آئے، اور کسی ایک کو گھر میں چھوٹا سا کتب خانہ شروع کرنے کی ترغیب دیں۔
  • اگر آپ کوئی غیر ملکی زبان جانتے ہیں تو کسی ایک مفید مضمون کا اردو میں ترجمہ کر کے دوسروں تک پہنچائیں۔

حوالہ جات

  • قرآن مجید: الزمر 39:9، طٰہٰ 20:114
  • Dimitri Gutas, Greek Thought, Arabic Culture: The Graeco-Arabic Translation Movement in Baghdad and Early ’Abbasid Society (Routledge, 1998)
  • Jim Al-Khalili, The House of Wisdom: How Arabic Science Saved Ancient Knowledge and Gave Us the Renaissance (Penguin, 2011)
  • الخوارزمی، “الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ” (تقریباً 820ء)
→ تمام مضامین

رابطے میں رہیں

نئے مضامین کی اطلاع، سوال یا تجویز کے لیے ہمیں ای میل کریں۔

ای میل بھیجیں — info@saeedmunzil.com